ہم مرکے کیا کرینگے، کیا کر لِیا ہے جی کے
محسُوس ہو رہے ہیں بادِ فنا کے جھونکے
کھُلنے لگے ہیں مجھ پر اسرار زندگی کے
شرح و بیانِ غم ہے اِک مطلبِ مُقیّد
خاموش ہُوں کہ معنی صدہا ہیں خامشی کے
بارِ الم اُٹھایا، رنگِ نِشاط دیکھا
آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حسی کے
No comments:
Post a Comment