Showing posts with label خواجہ حیدرعلی آتش. Show all posts
Showing posts with label خواجہ حیدرعلی آتش. Show all posts

Saturday, 4 March 2017

ساقی ہوں تیس روز سے مشتاق دید کا - خواجہ حیدر علی آتش

ساقی ہوں تیس روز سے مشتاق دید کا
دکھلا دے جامِ مے میں مجھے چاند عید کا

موقع ہوا نہ اُس رخِ روشن کی دید کا
افسانہ ہی سنا کیے ہم صبحِ عید کا

افسانہ سنیے یار کا ذکر اُس کا کیجیے
مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا

شیدائے حسنِ یار کس اقلیم میں نہیں
محبوب ہے وہ ماہ قریب و بعید کا

حاضر ہے چاہے جو کوئی نعمت فقیر کی
شیریں کلام اپنا ہے توشہ فرید کا

مریخ کا ہے ظلم و ستم کس شمار میں
پیرِ فلک کو رتبہ ہے تیرے مرید کا

حجت دہانِ یار میں کیونکر نہ کیجیے
منظور ہے ثبوت ہمیں ناپدید کا

لیتا ہے بوسہ دے کے وہ سیمیں عذار دل
یہ حال عاشقوں کا ہے جو زر خرید کا

آرائش اُن کی قتل کرے ہم کو بے گناہ
درکار مہندی گندھنے کو ہو خوں شہید کا

بندِ قبائے یار کے عقدے ہوں لاکھ قفل
گستاخ ہاتھ کام کریں گے کلید کا

دل بیچتے ہیں عاشقِ بے تاب لیجیے
قیمت وہ ہے جو مول ہو مالِ مزید کا

اپنی طرف اُن ابروؤں کے رخ کو پھیریے
اللہ زور دے جو کماں کی کشید کا

سودائیوں کو حاکمِ ظالم سے ڈر نہیں
داغِ جنوں ہر ایک نگیں ہے حدید کا

اُس رخ پہ ابروؤں سے مسوں کو سمجھ نہ کم
ہر آیہ ہے فیصح کلامِ مجید کا

کنجِ قفس میں پہنچی صبا لے کے بوئے گل
خط آ گیا بہارِ چمن کی رسید کا

شادیِ بے محل سے بھی ہوتا ہے دل کو غم
اندوہ طفل جمعہ کو ہوتا ہے عید کا

قاتل رہا کرے گی شبِ جمعہ روشنی
کوچے میں تیرے ڈھیر ہو تیرے شہید کا

موسیٰ کی طرح ہم کو بھی دیدار کا ہے شوق
آنکھوں کو حوصلہ ہے تجلی کی دید کا

صورت کو تیری دیکھنے آتے ہیں قرعہ بیں
رخ پر یقین ہے اُنہیں شکلِ سعید کا

چسپاں بدن سے یار کے ہو کر قبائے ناز
حیران کار رکھتی ہے قطع و برید کا

بے جرم تیغِ عشق سے دل ہو گیا ہے قتل
سینہ مرا مقام ہے مردِ شہید کا

دیوانہ زلفِ یار کی زنجیر کا ہے دل
رہتا ہے صدمہ روح کو قیدِ شدید کا

خوں ریز جس قدر کہ ہو اُس سے عجب نہیں
آتش فراقِ یار پدر ہے یزید کا



خواجہ حیدر علی آتش

وحشت آگیں ہے فسانہ مری رسوائی کا - خواجہ حیدر علی آتش

وحشت آگیں ہے فسانہ مری رسوائی کا
عاشقِ زار ہوں اک آہوئے صحرائی کا
پاؤں زنداں سے نہ نکلا ترے سودائی کا
داغ دل ہی میں رہا لالۂ صحرائی کا
دھیان رہتا ہے قدِ یار کی رعنائی کا
سامنا روز ہے یاں آفتِ بالائی کا
کوہِ غم مثلِ پرِ کاہ اٹھا لیتا ہوں
ناتوانی میں بھی عالم ہے توانائی کا
لحدِ تیرہ میں مجھ پر جو لگا ہونے عذاب
پھر گیا آنکھوں میں عالم شبِ تنہائی کا
کون سا دل ہے نہیں جس میں خدا کی منزل
شکوہ کس منہ سے کروں میں بتِ رعنائی کا
مردِ درویش ہوں تکیہ ہے توکل میرا
خرچ ہر روز ہے یاں آمدِ بالائی کا
بوسۂ چشمِ غزالاں مجھے یاد آتے ہیں
نہیں بھولا میں مزا میوۂ صحرائی کا
زندگانی نے مجھے مردہ بنا رکھا ہے
ملک الموت سے سائل ہوں مسیحائی کا
مصرعِ سرو میں لاکھوں ہی نکالوں شاخیں
باندھوں مضموں جو قدِ یار کی رعنائی کا
جب سے شیطان کا احوال سنا ہے میں نے
پائے بت پر بھی ارادہ ہے جبیں سائی کا
ہوئی حجت مجھے غنچے کے چٹکنے کی صدا
شک پڑا تھا دہنِ یار میں گویائی کا
وہ تماشا ہے ترا حُسنِ پرآشوب اے ترک
آنکھوں کی راہ سے دم نکلے تماشائی کا
کس طرح سے دلِ وحشی کا میں کہنا مانوں
کوئی قائل نہیں دیوانے کی دانائی کا
یہی زنجیر کے نالے سے صدا آتی ہے
قیدخانے میں برا حال ہے سودائی کا
اک پری کو بھی نہ شیشے میں اتارا میں نے
یاد کیا آئے گا اس گنبدِ مینائی کا
بعد شاعر کے ہو مشہور کلامِ شاعر
شہرہ البتہ کہ ہو مردے کی گویائی کی
شہر میں قافیہ پیمائی بہت کی آتش
اب ارادہ ہے مرا بادیہ پیمائی کا
 
 

خواجہ حیدر علی آتش

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے - آتش

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے
ہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے

پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے

لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے

یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے

سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازی
غمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے

 خواجہ حیدر علی آتش

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا - حیدر علی آتش

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا
خدا کی یاد بھولا شیخ، بُت سے برہمن بگڑا

امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک
نہ اک مُو کم ہوا اپنا ، نہ اک تارِ کفن بگڑا

لگے مُنہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

بناوٹ کیفِ مے سے کُھل گئی اُس شوخ کی آتش
لگا کر مُنہ سے پیمانے کو، وہ پیمان شکن بگڑا


حیدر علی آتش

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا -- حیدر علی آتش

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح دل شادماں تھا

مشاہد جمال پری کی تھیں آنکھیں
مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا

حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

کیا تھا اُسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائبا وہاں تھا

حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا



حیدر علی آتش

ہوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے -- خواجہ حیدر علی آتش

ہَوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے

شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طِفلی
ہنوز حُسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے

عدَم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے

طریقِ عِشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ، کسی جا اُتار راہ میں ہے

طریقِ عِشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے

جگہ ہے رحم کی، یار ایک ٹھوکر اِس کو بھی
شہیدِ ناز کا تیرے مزار راہ میں ہے

سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروَردِگار راہ میں ہے

نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد، بہت سا غبار راہ میں ہے

تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے

جنُوں میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غُبار راہ میں ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

کوئی تو دوش سے بارِ سفر اُتارے گا
ہزار راہزنِ اُمیدوار راہ میں ہے

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے، دشمن ہزار راہ میں ہے

بہت سی ٹھوکریں کِھلوائے گا یہ حُسن اُن کا
بُتوں کا عِشق نہیں کوہسار راہ میں ہے

پتا یہ کوچۂ قاتل کا سُن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نِشاں اِک مزار راہ میں ہے

پیادہ پا ہُوں رَواں سُوئے کوچۂ قاتل
اجَل مِری، مِرے سر پر سوار راہ میں ہے

چلا ہے تیر و کماں لے کے صید گاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شِکار راہ میں ہے

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہرآتش
گُلِ مُراد ہے منزِل میں، خار راہ میں ہے



 خواجہ حیدر علی آتش

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام -- خواجہ حیدرعلی آتش

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام
کرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام

حقا کے عِشق رکھتے ہیں تجھ سے حَسینِ دہر
دَم بھرتے ہیں تِرا بُتِ چین و چگِل تمام

ٹپکاتے زخمِ ہجر پر اے ترک ، کیا کریں
خالی ہیں تیل سے تِرے، چہرے کے تِل تمام

دیکھا ہے جب تجھے عرق آ آ گیا ہے یار
غیرت سے ہوگئے ہیں حَسِیں مُنفعِل تمام

عشق بُتاں کا روگ نہ اے دِل لگا مجھے
تُھکوا کے خُون کرتا ہے آزارِ سِل تمام

قُدسی بھی کُشتہ ہیں تِری شمشِیرِ ناز کے
مارے پڑے ہیں مُتّصِل و مُنفعِل تمام

دردِ فِراقِ یار سے ، کہتا ہے بند بند !
اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مُضمحِل تمام

ساری عدالت اُلفتِ صادِق کی ہے گواہ
مُہروں سے ہے لِپی ہُوئی اپنی سجِل تمام

کرتے ہیں غیر یار سے میرا بیانِ حال
اُلفت سے ہوگئے ہیں موافق مُخِل تمام

تیرِ نِگاہ ناز کا رہتا ہے سامنا
چَھلنی ہُوا ہے سِینہ، مُشبّک ہے دِل تمام

ہوتا ہے پردہ فاش، کلامِ دروغ کا
وعدے کا دِن سمجھ لے وہ، پیماں گسِل، تمام

خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ تھا تمھیں
اربابِ انجُمن ہُوئے آتش خجِل تمام



 خواجہ حیدرعلی آتش

Friday, 3 March 2017

اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں -- خواجہ حیدرعلی آتش

آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصود عیاں ہے کہ جو تھا

عشقِ گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا

عالمِ حسن خداداد بتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا

راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا

روز کرتے ہیں شب ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سبک خواب، گراں ہے کہ جو تھا

ایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہور
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا

دولتِ عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا

ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حسن کا عالم وہ کہاں ہے، کہ جو تھا

جاں کی تسکیں کے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تری ہم کو گماں ہے کہ جو تھا

اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا

دہن اس روئے کتابی میں ہے، پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قراں میں نہاں ہے کہ جو تھا

کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نما ہے تاحال
کوئے جاناں کی طرف دل نگراں ہے کہ جو تھا

کوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ ترا آبِ رواں ہے کہ جو تھا

سوزشِ دل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا
عود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہے کہ جو تھا

رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سنتے سنتے
شمعِ محفل صنمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا

پائے خم مستوں کی ہو حق کا جو عالم ہے سو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا

کون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیں
یہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہے کہ جو تھا

بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک شب و روز رواں ہے کہ جو تھا

لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا

دین و دنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھ​

خواجہ حیدرعلی آتش

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا -- خواجہ حیدرعلی آتش

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصُود عیاں ہے کہ جو تھا

عِشقِ گُل میں وہی بُلبُل کا فُغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا

عالَمِ حُسن ِخُداداد ِبُتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بَلائے دِل و جاں ہے کہ جو تھا

راہ میں تیری شب و روز بَسر کرتا ہُوں
وہی مِیل اور وہی سنگِ نِشاں ہے کہ جو تھا

روز کرتے ہیں شبِ ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سُبک خوابِ گراں ہے کہ جو تھا

ایک عالَم میں ہو ہر چند مسیحا مشہوُر
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا

دولتِ عِشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مُہر و نِشاں ہے کہ جو تھا

ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حُسن کا عالَم وہ کہاں ہے؟ کہ جو تھا

جاں کی تسکیں کے لیے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تِری ہم کو گُماں ہے کہ جو تھا

اثرِ منزلِ مقصوُد نہیں دُنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رَواں ہے کہ جو تھا

دہن اُس رُوئے کتابی میں ہے پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قرآں میں نہاں ہے کہ جو تھا

کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نُما ہے تاحال
کوُئے جاناں کی طرف دِل نگراں ہے کہ جو تھا

کوہ و صحرا و گُلِستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ تِرا آبِ رَواں ہے کہ جو تھا

سوزشِ دِل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا !
عود کے جلنے سے مجمر میں دُھواں ہے کہ جو تھا

رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سُنتے سُنتے
شمعِ محِفل صَنَمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا

پائے خُم مَستوں کی ہُو حق کا جو عالَم ہے سَو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا

کون سے دِن نئی قبریں نہیں اِس میں بنتیں
یہ خرابہ، وہی عبرت کا مکاں ہے، کہ جو تھا

بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک، شب و روز رَواں ہے کہ جو تھا

لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا

دِین و دُنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا! سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھا



خواجہ حیدرعلی آتش

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا --- آتش

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

کیا کیا الجھتا ہے تیری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینہ صد چاک شانہ کیا

زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوز بکف
قاعدوں نے راستہ میں لٹایا خزانہ کیا

اڑتا ہے شوقِ راحت منزل سے اسپ عمر
مہمیز کس کو کہتے ہیں اور تازیانہ کیا

زینہ صبا کو ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

صیاد اسیرِ دام رگ گل ہے عندلیب
دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے آب و دانہ کیا

طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

ہوتا ہے زر و سن کے جو نا مرد مدعی
رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا

بے یار ساز گار نہ ہو گا وہ گوش کو
مطرب ہمیں سناتا ہے اپنا ترانہ کیا

صیاد گل غدار دکھاتا ہے سیرِ باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا

ترچھی نظر سے طائرِ دل ہو چکا شکار
جب تیر کج پڑے گا اڑے گا نشانہ کیا

بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں
مہماں، سرائے جسم کا ہو گا ردانہ کیا

یاں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ نہ دے
آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا


خواجہ حیدرعلی آتش