کڑا ہے اب کے ہمارا سفر، دُعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا، جو بھی نقشہ ہو!
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر، دُعا کرنا
چراغ جاں پہ ، اِس آندھی میں خیریت گُزرے
کوئی اُمید نہیں ہے، مگر دُعا کرنا
تمہارے بعد مِرے زخمِ نارَسائی کو
نہ ہو نصِیب کوئی چارہ گر ، دُعا کرنا
مُسافتوں میں، نہ آزار جی کو لگ جائے!
مِزاج داں نہ مِلیں ہمسفر، دُعا کرنا
دُکھوں کی دُھوپ میں، دامن کشا مِلیں سائے
گھنے، ہر ے ہی رہَیں سب شجر، دُعا کرنا
نشاطِ قُرب میں، آئی ہے ایسی نیند مجھے!
کُھلے، نہ آنکھ مِری عُمر بھر ، د ُعا کرنا
No comments:
Post a Comment