Showing posts with label امجد اسلام امجد. Show all posts
Showing posts with label امجد اسلام امجد. Show all posts

Friday, 3 March 2017

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے -- امجد اسلام امجد

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے

یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے !

وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں ، جِسے تم ہنسی میں اُڑاگئے

وہ چراغِ جاں، کبھی جس کی لَو ، نہ کسی ہَوا سے نِگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسو سے ، اُسے چُپکے چُپکے بُجھا گئے

وہ تھا چاند شامِ وصال کا ، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے

یہ جو بند گانِ نیاز ہیں، یہ تمام ہیں وہی لشکر ی !
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی، تو ترے حضور میں آگئے

تری بے رُخی کے دیار میں، میں ہَوا کے ساتھ ہَوا ہُوا
ترے آئنے کی تلاش میں ، مِرے خواب چہرا گنوا گئے

ترے وسوسوں کے فشار میں ، ترا شہرِ رنگ اُجڑ گیا
مری خواہشوں کے غُبار میں، مرے ماہ وسالِ وفا گئے!

وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے

مِری عُمر سے نہ سمٹ سکے، مِرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے، تری اِک نگاہ میں آگئے

امجد اسلام امجد

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے -- امجد اسلام امجد

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

فصلِ گل آئی، پھر اِک بار اسیرانِ وفا
اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے

ہجر کی چوٹ عجب سنگ شکن ہوتی ہے
دل کی بے فیض زمینوں سے خزانے نکلے

عمر گذری ہے شبِ تار میں آنکھیں ملتے
کس افق سے مرا خورشید نہ جانے نکلے

کوئے قاتل میں چلے جیسے شہیدوں کا جلوس
خواب یو ں بھیگتی آنکھوں کو سجانے نکلے

دل نے اِک اینٹ سے تعمیر کیا تاج محل
تونے اک بات کہی، لاکھ فسانے نکلے

دشتِ تنہائی ہجراں میں کھڑا سوچتا ہوں
ہا ئے کیا لوگ مرا ساتھ نبھانے نکلے

میں نے امجد اسے بےواسطہ دیکھا ہی نہیں
وہ تو خوشبو میں بھی آہٹ کے بہانے نکلے


امجد اسلام امجد


محبت ایسا نغمہ ہے -- امجد اسلام امجد

محبت ایسا نغمہ ہے 
ذرا بھی جھول ہے لَے میں 
تو سُر قائم نہیں ہوتا 

محبت ایسا شعلہ ہے 
ہوا جیسی بھی چلتی ہو 
کبھی مدھم نہیں ہوتا 

محبت ایسا رشتہ ہے 
کہ جس میں بندھنے والوں کے 
دلوں میں غم نہیں ہوتا 

محبت ایسا پودا ہے 
جو تب بھی سبز رہتا ہے 
کہ جب موسم نہیں ہوتا 

محبت ایسا دریا ہے 
کہ بارش روٹھ بھی جائے 
تو پانی کم نہیں ہوتا 

امجد اسلام امجد

اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم -- امجد اسلام امجد

اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم
یاد ہے تم نے کہا تھا
''جب نگاہوں میں چمک ہو
لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس
اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے
تو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہے
وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت
جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہے
نگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیں
اور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیے
دامن بچھاتی ہے''
اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگا
جب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کر
تم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا
''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہے
حاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیں
لفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیں
وقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہے
جانے والا وقت سایہ ہے
کہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے
یاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیں
یہ جسے تم غم اذیت درد آنسو
دکھ وغیرہ کہہ رہے ہو
ایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہے
تم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تک
جو بھی کچھ میں نے کہا ہے''
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم


امجد اسلام امجد