Monday, 6 March 2017

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے - امیر مینائی

تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لیے

جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے

ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لیے

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسِن کے لیے

کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے

سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی اِن کے لئے

صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیرؔ
بھیجتے تحفہ موذِّن کے لیے



امیر مینائی

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ۔ امیر مینائی

یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
جو کچھ نہاں تھا تخم میں، پیدا شجر میں ہے

ہر دم جو خونِ تازہ مری چشمِ تر میں ہے
ناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے

کھٹکا رقیب کا نہیں، آغوش میں ہے یار
اس پر بھی اک کھٹک سی ہمارے جگر میں ہے

واصل سمجھیے اس کو جو سالک ہے عشق میں
منزل پہ جانیے اسے جو رہگزر میں ہے

آنکھوں کے نیچے پھِرتی ہے تصویر یار کی
پُتلی سی اک بندھی ہوئی تارِ نظر میں ہے

کرتے ہیں اس طریق سے طے ہم رہِ سلوک
سر اس کے آستاں پہ، قدم رہگزر میں ہے

پہلو میں میرے دل کو نہ، اے درد! کر تلاش
مدت ہوئی تباہی کا مارا سفر میں ہے

تُلسی کی کیا بہار ہے دندانِ یار پر
سوسن کا پھول چشمۂ آبِ گہر میں ہے

ہو دردِ عشق ایک جگہ تو دوا کروں
دل میں، جگر میں، سینے میں، پہلو میں، سر میں ہے

صیّاد سے سوال رہائی کا کیا کروں
اُڑنے کا حوصلہ ہی نہیں بال و پر میں ہے

قاصد کو ہاتھ داغ کے بھیجا ہے یار نے
خاکی نئی رسید کفِ نامہ بر میں ہے

تیرِ قضا کو ناز ہے کیا اپنے توڑ پر
اتنا اثر تو یار کی سیدھی نظر میں ہے

تم جاؤ تیغ باندھ کے پھر سیر دیکھ لو
میرے گلے پہ ہے کہ تمھاری کمر میں ہے

ساقی مئے طہور میں کیفیّتیں سہی
پر وہ مزا کہاں ہے جو تیری نظر میں ہے

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے


امیر مینائی

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔ امیر مینائی

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے

ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے​

امیر مینائی​
از: دیوانِ امیر مینائی معروف بہ صنم خانۂ عشق​
 

Saturday, 4 March 2017

ساقی ہوں تیس روز سے مشتاق دید کا - خواجہ حیدر علی آتش

ساقی ہوں تیس روز سے مشتاق دید کا
دکھلا دے جامِ مے میں مجھے چاند عید کا

موقع ہوا نہ اُس رخِ روشن کی دید کا
افسانہ ہی سنا کیے ہم صبحِ عید کا

افسانہ سنیے یار کا ذکر اُس کا کیجیے
مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا

شیدائے حسنِ یار کس اقلیم میں نہیں
محبوب ہے وہ ماہ قریب و بعید کا

حاضر ہے چاہے جو کوئی نعمت فقیر کی
شیریں کلام اپنا ہے توشہ فرید کا

مریخ کا ہے ظلم و ستم کس شمار میں
پیرِ فلک کو رتبہ ہے تیرے مرید کا

حجت دہانِ یار میں کیونکر نہ کیجیے
منظور ہے ثبوت ہمیں ناپدید کا

لیتا ہے بوسہ دے کے وہ سیمیں عذار دل
یہ حال عاشقوں کا ہے جو زر خرید کا

آرائش اُن کی قتل کرے ہم کو بے گناہ
درکار مہندی گندھنے کو ہو خوں شہید کا

بندِ قبائے یار کے عقدے ہوں لاکھ قفل
گستاخ ہاتھ کام کریں گے کلید کا

دل بیچتے ہیں عاشقِ بے تاب لیجیے
قیمت وہ ہے جو مول ہو مالِ مزید کا

اپنی طرف اُن ابروؤں کے رخ کو پھیریے
اللہ زور دے جو کماں کی کشید کا

سودائیوں کو حاکمِ ظالم سے ڈر نہیں
داغِ جنوں ہر ایک نگیں ہے حدید کا

اُس رخ پہ ابروؤں سے مسوں کو سمجھ نہ کم
ہر آیہ ہے فیصح کلامِ مجید کا

کنجِ قفس میں پہنچی صبا لے کے بوئے گل
خط آ گیا بہارِ چمن کی رسید کا

شادیِ بے محل سے بھی ہوتا ہے دل کو غم
اندوہ طفل جمعہ کو ہوتا ہے عید کا

قاتل رہا کرے گی شبِ جمعہ روشنی
کوچے میں تیرے ڈھیر ہو تیرے شہید کا

موسیٰ کی طرح ہم کو بھی دیدار کا ہے شوق
آنکھوں کو حوصلہ ہے تجلی کی دید کا

صورت کو تیری دیکھنے آتے ہیں قرعہ بیں
رخ پر یقین ہے اُنہیں شکلِ سعید کا

چسپاں بدن سے یار کے ہو کر قبائے ناز
حیران کار رکھتی ہے قطع و برید کا

بے جرم تیغِ عشق سے دل ہو گیا ہے قتل
سینہ مرا مقام ہے مردِ شہید کا

دیوانہ زلفِ یار کی زنجیر کا ہے دل
رہتا ہے صدمہ روح کو قیدِ شدید کا

خوں ریز جس قدر کہ ہو اُس سے عجب نہیں
آتش فراقِ یار پدر ہے یزید کا



خواجہ حیدر علی آتش

وحشت آگیں ہے فسانہ مری رسوائی کا - خواجہ حیدر علی آتش

وحشت آگیں ہے فسانہ مری رسوائی کا
عاشقِ زار ہوں اک آہوئے صحرائی کا
پاؤں زنداں سے نہ نکلا ترے سودائی کا
داغ دل ہی میں رہا لالۂ صحرائی کا
دھیان رہتا ہے قدِ یار کی رعنائی کا
سامنا روز ہے یاں آفتِ بالائی کا
کوہِ غم مثلِ پرِ کاہ اٹھا لیتا ہوں
ناتوانی میں بھی عالم ہے توانائی کا
لحدِ تیرہ میں مجھ پر جو لگا ہونے عذاب
پھر گیا آنکھوں میں عالم شبِ تنہائی کا
کون سا دل ہے نہیں جس میں خدا کی منزل
شکوہ کس منہ سے کروں میں بتِ رعنائی کا
مردِ درویش ہوں تکیہ ہے توکل میرا
خرچ ہر روز ہے یاں آمدِ بالائی کا
بوسۂ چشمِ غزالاں مجھے یاد آتے ہیں
نہیں بھولا میں مزا میوۂ صحرائی کا
زندگانی نے مجھے مردہ بنا رکھا ہے
ملک الموت سے سائل ہوں مسیحائی کا
مصرعِ سرو میں لاکھوں ہی نکالوں شاخیں
باندھوں مضموں جو قدِ یار کی رعنائی کا
جب سے شیطان کا احوال سنا ہے میں نے
پائے بت پر بھی ارادہ ہے جبیں سائی کا
ہوئی حجت مجھے غنچے کے چٹکنے کی صدا
شک پڑا تھا دہنِ یار میں گویائی کا
وہ تماشا ہے ترا حُسنِ پرآشوب اے ترک
آنکھوں کی راہ سے دم نکلے تماشائی کا
کس طرح سے دلِ وحشی کا میں کہنا مانوں
کوئی قائل نہیں دیوانے کی دانائی کا
یہی زنجیر کے نالے سے صدا آتی ہے
قیدخانے میں برا حال ہے سودائی کا
اک پری کو بھی نہ شیشے میں اتارا میں نے
یاد کیا آئے گا اس گنبدِ مینائی کا
بعد شاعر کے ہو مشہور کلامِ شاعر
شہرہ البتہ کہ ہو مردے کی گویائی کی
شہر میں قافیہ پیمائی بہت کی آتش
اب ارادہ ہے مرا بادیہ پیمائی کا
 
 

خواجہ حیدر علی آتش

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے - آتش

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے
ہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے

پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے

لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے

یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے

سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازی
غمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے

 خواجہ حیدر علی آتش

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا - حیدر علی آتش

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا
خدا کی یاد بھولا شیخ، بُت سے برہمن بگڑا

امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک
نہ اک مُو کم ہوا اپنا ، نہ اک تارِ کفن بگڑا

لگے مُنہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

بناوٹ کیفِ مے سے کُھل گئی اُس شوخ کی آتش
لگا کر مُنہ سے پیمانے کو، وہ پیمان شکن بگڑا


حیدر علی آتش

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا -- حیدر علی آتش

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح دل شادماں تھا

مشاہد جمال پری کی تھیں آنکھیں
مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا

حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

کیا تھا اُسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائبا وہاں تھا

حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا



حیدر علی آتش

ہوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے -- خواجہ حیدر علی آتش

ہَوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے

شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طِفلی
ہنوز حُسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے

عدَم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے

طریقِ عِشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ، کسی جا اُتار راہ میں ہے

طریقِ عِشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے

جگہ ہے رحم کی، یار ایک ٹھوکر اِس کو بھی
شہیدِ ناز کا تیرے مزار راہ میں ہے

سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروَردِگار راہ میں ہے

نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد، بہت سا غبار راہ میں ہے

تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے

جنُوں میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غُبار راہ میں ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

کوئی تو دوش سے بارِ سفر اُتارے گا
ہزار راہزنِ اُمیدوار راہ میں ہے

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے، دشمن ہزار راہ میں ہے

بہت سی ٹھوکریں کِھلوائے گا یہ حُسن اُن کا
بُتوں کا عِشق نہیں کوہسار راہ میں ہے

پتا یہ کوچۂ قاتل کا سُن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نِشاں اِک مزار راہ میں ہے

پیادہ پا ہُوں رَواں سُوئے کوچۂ قاتل
اجَل مِری، مِرے سر پر سوار راہ میں ہے

چلا ہے تیر و کماں لے کے صید گاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شِکار راہ میں ہے

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہرآتش
گُلِ مُراد ہے منزِل میں، خار راہ میں ہے



 خواجہ حیدر علی آتش

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام -- خواجہ حیدرعلی آتش

ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام
کرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام

حقا کے عِشق رکھتے ہیں تجھ سے حَسینِ دہر
دَم بھرتے ہیں تِرا بُتِ چین و چگِل تمام

ٹپکاتے زخمِ ہجر پر اے ترک ، کیا کریں
خالی ہیں تیل سے تِرے، چہرے کے تِل تمام

دیکھا ہے جب تجھے عرق آ آ گیا ہے یار
غیرت سے ہوگئے ہیں حَسِیں مُنفعِل تمام

عشق بُتاں کا روگ نہ اے دِل لگا مجھے
تُھکوا کے خُون کرتا ہے آزارِ سِل تمام

قُدسی بھی کُشتہ ہیں تِری شمشِیرِ ناز کے
مارے پڑے ہیں مُتّصِل و مُنفعِل تمام

دردِ فِراقِ یار سے ، کہتا ہے بند بند !
اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مُضمحِل تمام

ساری عدالت اُلفتِ صادِق کی ہے گواہ
مُہروں سے ہے لِپی ہُوئی اپنی سجِل تمام

کرتے ہیں غیر یار سے میرا بیانِ حال
اُلفت سے ہوگئے ہیں موافق مُخِل تمام

تیرِ نِگاہ ناز کا رہتا ہے سامنا
چَھلنی ہُوا ہے سِینہ، مُشبّک ہے دِل تمام

ہوتا ہے پردہ فاش، کلامِ دروغ کا
وعدے کا دِن سمجھ لے وہ، پیماں گسِل، تمام

خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ تھا تمھیں
اربابِ انجُمن ہُوئے آتش خجِل تمام



 خواجہ حیدرعلی آتش

Friday, 3 March 2017

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے -- امجد اسلام امجد

جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے

یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے !

وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں ، جِسے تم ہنسی میں اُڑاگئے

وہ چراغِ جاں، کبھی جس کی لَو ، نہ کسی ہَوا سے نِگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسو سے ، اُسے چُپکے چُپکے بُجھا گئے

وہ تھا چاند شامِ وصال کا ، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے

یہ جو بند گانِ نیاز ہیں، یہ تمام ہیں وہی لشکر ی !
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی، تو ترے حضور میں آگئے

تری بے رُخی کے دیار میں، میں ہَوا کے ساتھ ہَوا ہُوا
ترے آئنے کی تلاش میں ، مِرے خواب چہرا گنوا گئے

ترے وسوسوں کے فشار میں ، ترا شہرِ رنگ اُجڑ گیا
مری خواہشوں کے غُبار میں، مرے ماہ وسالِ وفا گئے!

وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے

مِری عُمر سے نہ سمٹ سکے، مِرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے، تری اِک نگاہ میں آگئے

امجد اسلام امجد

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے -- امجد اسلام امجد

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

فصلِ گل آئی، پھر اِک بار اسیرانِ وفا
اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے

ہجر کی چوٹ عجب سنگ شکن ہوتی ہے
دل کی بے فیض زمینوں سے خزانے نکلے

عمر گذری ہے شبِ تار میں آنکھیں ملتے
کس افق سے مرا خورشید نہ جانے نکلے

کوئے قاتل میں چلے جیسے شہیدوں کا جلوس
خواب یو ں بھیگتی آنکھوں کو سجانے نکلے

دل نے اِک اینٹ سے تعمیر کیا تاج محل
تونے اک بات کہی، لاکھ فسانے نکلے

دشتِ تنہائی ہجراں میں کھڑا سوچتا ہوں
ہا ئے کیا لوگ مرا ساتھ نبھانے نکلے

میں نے امجد اسے بےواسطہ دیکھا ہی نہیں
وہ تو خوشبو میں بھی آہٹ کے بہانے نکلے


امجد اسلام امجد


محبت ایسا نغمہ ہے -- امجد اسلام امجد

محبت ایسا نغمہ ہے 
ذرا بھی جھول ہے لَے میں 
تو سُر قائم نہیں ہوتا 

محبت ایسا شعلہ ہے 
ہوا جیسی بھی چلتی ہو 
کبھی مدھم نہیں ہوتا 

محبت ایسا رشتہ ہے 
کہ جس میں بندھنے والوں کے 
دلوں میں غم نہیں ہوتا 

محبت ایسا پودا ہے 
جو تب بھی سبز رہتا ہے 
کہ جب موسم نہیں ہوتا 

محبت ایسا دریا ہے 
کہ بارش روٹھ بھی جائے 
تو پانی کم نہیں ہوتا 

امجد اسلام امجد

اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم -- امجد اسلام امجد

اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم
یاد ہے تم نے کہا تھا
''جب نگاہوں میں چمک ہو
لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس
اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے
تو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہے
وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت
جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہے
نگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیں
اور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیے
دامن بچھاتی ہے''
اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگا
جب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کر
تم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا
''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہے
حاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیں
لفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیں
وقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہے
جانے والا وقت سایہ ہے
کہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے
یاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیں
یہ جسے تم غم اذیت درد آنسو
دکھ وغیرہ کہہ رہے ہو
ایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہے
تم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تک
جو بھی کچھ میں نے کہا ہے''
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم


امجد اسلام امجد

اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں -- خواجہ حیدرعلی آتش

آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصود عیاں ہے کہ جو تھا

عشقِ گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا

عالمِ حسن خداداد بتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا

راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا

روز کرتے ہیں شب ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سبک خواب، گراں ہے کہ جو تھا

ایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہور
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا

دولتِ عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا

ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حسن کا عالم وہ کہاں ہے، کہ جو تھا

جاں کی تسکیں کے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تری ہم کو گماں ہے کہ جو تھا

اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا

دہن اس روئے کتابی میں ہے، پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قراں میں نہاں ہے کہ جو تھا

کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نما ہے تاحال
کوئے جاناں کی طرف دل نگراں ہے کہ جو تھا

کوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ ترا آبِ رواں ہے کہ جو تھا

سوزشِ دل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا
عود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہے کہ جو تھا

رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سنتے سنتے
شمعِ محفل صنمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا

پائے خم مستوں کی ہو حق کا جو عالم ہے سو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا

کون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیں
یہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہے کہ جو تھا

بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک شب و روز رواں ہے کہ جو تھا

لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا

دین و دنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھ​

خواجہ حیدرعلی آتش

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا -- خواجہ حیدرعلی آتش

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصُود عیاں ہے کہ جو تھا

عِشقِ گُل میں وہی بُلبُل کا فُغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا

عالَمِ حُسن ِخُداداد ِبُتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بَلائے دِل و جاں ہے کہ جو تھا

راہ میں تیری شب و روز بَسر کرتا ہُوں
وہی مِیل اور وہی سنگِ نِشاں ہے کہ جو تھا

روز کرتے ہیں شبِ ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سُبک خوابِ گراں ہے کہ جو تھا

ایک عالَم میں ہو ہر چند مسیحا مشہوُر
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا

دولتِ عِشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مُہر و نِشاں ہے کہ جو تھا

ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حُسن کا عالَم وہ کہاں ہے؟ کہ جو تھا

جاں کی تسکیں کے لیے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تِری ہم کو گُماں ہے کہ جو تھا

اثرِ منزلِ مقصوُد نہیں دُنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رَواں ہے کہ جو تھا

دہن اُس رُوئے کتابی میں ہے پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قرآں میں نہاں ہے کہ جو تھا

کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نُما ہے تاحال
کوُئے جاناں کی طرف دِل نگراں ہے کہ جو تھا

کوہ و صحرا و گُلِستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ تِرا آبِ رَواں ہے کہ جو تھا

سوزشِ دِل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا !
عود کے جلنے سے مجمر میں دُھواں ہے کہ جو تھا

رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سُنتے سُنتے
شمعِ محِفل صَنَمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا

پائے خُم مَستوں کی ہُو حق کا جو عالَم ہے سَو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا

کون سے دِن نئی قبریں نہیں اِس میں بنتیں
یہ خرابہ، وہی عبرت کا مکاں ہے، کہ جو تھا

بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک، شب و روز رَواں ہے کہ جو تھا

لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا

دِین و دُنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا! سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھا



خواجہ حیدرعلی آتش

ہنگامہ ہے کیوں برپا -- اکبر الہ آبادی

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ، تو نہیں ڈالا، چوری، تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں
اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟

اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے
 

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے۔ اقبال عظیم

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے

اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے

دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے

اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے

تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے

ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے

تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے

صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں
تم تو بھولے ہو، چراغوں سے بہل جاؤ گے


اقبال عظیم

مدرسہ -- علامہ اقبالؒ

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا ، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش

دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

فیض فطرت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش


علامہ اقبالؒ


ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف -- افتخار عارف

ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف
دل کسی اور طرف دستِ دعا اور طرف

اک رجز خوان ہنر کاسہ و کشکول میں طاق
جب صفِ آرا ہوئے لشکر تو ملا اور طرف

اے کہ ہر لمحہ نئے وہم میں الجھے ہوئے شخص
میری محفل میں الجھتا ہے تو جا اور طرف

اہلِ تشہیر و تماشا کے طلسمات کی خیر
چل پڑے شہر کے سب شعلہ نوا اور طرف

کیا مسافر تھا سفر کرتا رہا اس بستی میں
اور لو دیتے تھے نقشِ کفِ پا اور طرف

شاخِ مژگاں سے جو ٹوٹا تھا ستارہ سرِ شام
رات آئی تو وہی پھول کھلا اور طرف

نرغۂ ظلم میں دکھ سہتی رہی خلقتِ شہر
اہلِ دنیا نے کیے جشن بپا اور طرف

 

 

افتخار عارف