تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لیے
جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے
ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لیے
ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسِن کے لیے
کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے
سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی اِن کے لئے
صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیرؔ
بھیجتے تحفہ موذِّن کے لیے
امیر مینائی
Monday, 6 March 2017
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے - امیر مینائی
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ۔ امیر مینائی
یہ سب ظہورِ شانِ حقیقت بشر میں ہے
جو کچھ نہاں تھا تخم میں، پیدا شجر میں ہے
ہر دم جو خونِ تازہ مری چشمِ تر میں ہے
ناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے
کھٹکا رقیب کا نہیں، آغوش میں ہے یار
اس پر بھی اک کھٹک سی ہمارے جگر میں ہے
واصل سمجھیے اس کو جو سالک ہے عشق میں
منزل پہ جانیے اسے جو رہگزر میں ہے
آنکھوں کے نیچے پھِرتی ہے تصویر یار کی
پُتلی سی اک بندھی ہوئی تارِ نظر میں ہے
کرتے ہیں اس طریق سے طے ہم رہِ سلوک
سر اس کے آستاں پہ، قدم رہگزر میں ہے
پہلو میں میرے دل کو نہ، اے درد! کر تلاش
مدت ہوئی تباہی کا مارا سفر میں ہے
تُلسی کی کیا بہار ہے دندانِ یار پر
سوسن کا پھول چشمۂ آبِ گہر میں ہے
ہو دردِ عشق ایک جگہ تو دوا کروں
دل میں، جگر میں، سینے میں، پہلو میں، سر میں ہے
صیّاد سے سوال رہائی کا کیا کروں
اُڑنے کا حوصلہ ہی نہیں بال و پر میں ہے
قاصد کو ہاتھ داغ کے بھیجا ہے یار نے
خاکی نئی رسید کفِ نامہ بر میں ہے
تیرِ قضا کو ناز ہے کیا اپنے توڑ پر
اتنا اثر تو یار کی سیدھی نظر میں ہے
تم جاؤ تیغ باندھ کے پھر سیر دیکھ لو
میرے گلے پہ ہے کہ تمھاری کمر میں ہے
ساقی مئے طہور میں کیفیّتیں سہی
پر وہ مزا کہاں ہے جو تیری نظر میں ہے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی
جو کچھ نہاں تھا تخم میں، پیدا شجر میں ہے
ہر دم جو خونِ تازہ مری چشمِ تر میں ہے
ناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے
کھٹکا رقیب کا نہیں، آغوش میں ہے یار
اس پر بھی اک کھٹک سی ہمارے جگر میں ہے
واصل سمجھیے اس کو جو سالک ہے عشق میں
منزل پہ جانیے اسے جو رہگزر میں ہے
آنکھوں کے نیچے پھِرتی ہے تصویر یار کی
پُتلی سی اک بندھی ہوئی تارِ نظر میں ہے
کرتے ہیں اس طریق سے طے ہم رہِ سلوک
سر اس کے آستاں پہ، قدم رہگزر میں ہے
پہلو میں میرے دل کو نہ، اے درد! کر تلاش
مدت ہوئی تباہی کا مارا سفر میں ہے
تُلسی کی کیا بہار ہے دندانِ یار پر
سوسن کا پھول چشمۂ آبِ گہر میں ہے
ہو دردِ عشق ایک جگہ تو دوا کروں
دل میں، جگر میں، سینے میں، پہلو میں، سر میں ہے
صیّاد سے سوال رہائی کا کیا کروں
اُڑنے کا حوصلہ ہی نہیں بال و پر میں ہے
قاصد کو ہاتھ داغ کے بھیجا ہے یار نے
خاکی نئی رسید کفِ نامہ بر میں ہے
تیرِ قضا کو ناز ہے کیا اپنے توڑ پر
اتنا اثر تو یار کی سیدھی نظر میں ہے
تم جاؤ تیغ باندھ کے پھر سیر دیکھ لو
میرے گلے پہ ہے کہ تمھاری کمر میں ہے
ساقی مئے طہور میں کیفیّتیں سہی
پر وہ مزا کہاں ہے جو تیری نظر میں ہے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔ امیر مینائی
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے
نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے
یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے
ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے
ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے
جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے
نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے
یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے
ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے
ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے
جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے
امیر مینائی
از: دیوانِ امیر مینائی معروف بہ صنم خانۂ عشق
Saturday, 4 March 2017
ساقی ہوں تیس روز سے مشتاق دید کا - خواجہ حیدر علی آتش
ساقی ہوں تیس روز سے مشتاق دید کا
دکھلا دے جامِ مے میں مجھے چاند عید کا
موقع ہوا نہ اُس رخِ روشن کی دید کا
افسانہ ہی سنا کیے ہم صبحِ عید کا
افسانہ سنیے یار کا ذکر اُس کا کیجیے
مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا
شیدائے حسنِ یار کس اقلیم میں نہیں
محبوب ہے وہ ماہ قریب و بعید کا
حاضر ہے چاہے جو کوئی نعمت فقیر کی
شیریں کلام اپنا ہے توشہ فرید کا
مریخ کا ہے ظلم و ستم کس شمار میں
پیرِ فلک کو رتبہ ہے تیرے مرید کا
حجت دہانِ یار میں کیونکر نہ کیجیے
منظور ہے ثبوت ہمیں ناپدید کا
لیتا ہے بوسہ دے کے وہ سیمیں عذار دل
یہ حال عاشقوں کا ہے جو زر خرید کا
آرائش اُن کی قتل کرے ہم کو بے گناہ
درکار مہندی گندھنے کو ہو خوں شہید کا
بندِ قبائے یار کے عقدے ہوں لاکھ قفل
گستاخ ہاتھ کام کریں گے کلید کا
دل بیچتے ہیں عاشقِ بے تاب لیجیے
قیمت وہ ہے جو مول ہو مالِ مزید کا
اپنی طرف اُن ابروؤں کے رخ کو پھیریے
اللہ زور دے جو کماں کی کشید کا
سودائیوں کو حاکمِ ظالم سے ڈر نہیں
داغِ جنوں ہر ایک نگیں ہے حدید کا
اُس رخ پہ ابروؤں سے مسوں کو سمجھ نہ کم
ہر آیہ ہے فیصح کلامِ مجید کا
کنجِ قفس میں پہنچی صبا لے کے بوئے گل
خط آ گیا بہارِ چمن کی رسید کا
شادیِ بے محل سے بھی ہوتا ہے دل کو غم
اندوہ طفل جمعہ کو ہوتا ہے عید کا
قاتل رہا کرے گی شبِ جمعہ روشنی
کوچے میں تیرے ڈھیر ہو تیرے شہید کا
موسیٰ کی طرح ہم کو بھی دیدار کا ہے شوق
آنکھوں کو حوصلہ ہے تجلی کی دید کا
صورت کو تیری دیکھنے آتے ہیں قرعہ بیں
رخ پر یقین ہے اُنہیں شکلِ سعید کا
چسپاں بدن سے یار کے ہو کر قبائے ناز
حیران کار رکھتی ہے قطع و برید کا
بے جرم تیغِ عشق سے دل ہو گیا ہے قتل
سینہ مرا مقام ہے مردِ شہید کا
دیوانہ زلفِ یار کی زنجیر کا ہے دل
رہتا ہے صدمہ روح کو قیدِ شدید کا
خوں ریز جس قدر کہ ہو اُس سے عجب نہیں
آتش فراقِ یار پدر ہے یزید کا
دکھلا دے جامِ مے میں مجھے چاند عید کا
موقع ہوا نہ اُس رخِ روشن کی دید کا
افسانہ ہی سنا کیے ہم صبحِ عید کا
افسانہ سنیے یار کا ذکر اُس کا کیجیے
مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا
شیدائے حسنِ یار کس اقلیم میں نہیں
محبوب ہے وہ ماہ قریب و بعید کا
حاضر ہے چاہے جو کوئی نعمت فقیر کی
شیریں کلام اپنا ہے توشہ فرید کا
مریخ کا ہے ظلم و ستم کس شمار میں
پیرِ فلک کو رتبہ ہے تیرے مرید کا
حجت دہانِ یار میں کیونکر نہ کیجیے
منظور ہے ثبوت ہمیں ناپدید کا
لیتا ہے بوسہ دے کے وہ سیمیں عذار دل
یہ حال عاشقوں کا ہے جو زر خرید کا
آرائش اُن کی قتل کرے ہم کو بے گناہ
درکار مہندی گندھنے کو ہو خوں شہید کا
بندِ قبائے یار کے عقدے ہوں لاکھ قفل
گستاخ ہاتھ کام کریں گے کلید کا
دل بیچتے ہیں عاشقِ بے تاب لیجیے
قیمت وہ ہے جو مول ہو مالِ مزید کا
اپنی طرف اُن ابروؤں کے رخ کو پھیریے
اللہ زور دے جو کماں کی کشید کا
سودائیوں کو حاکمِ ظالم سے ڈر نہیں
داغِ جنوں ہر ایک نگیں ہے حدید کا
اُس رخ پہ ابروؤں سے مسوں کو سمجھ نہ کم
ہر آیہ ہے فیصح کلامِ مجید کا
کنجِ قفس میں پہنچی صبا لے کے بوئے گل
خط آ گیا بہارِ چمن کی رسید کا
شادیِ بے محل سے بھی ہوتا ہے دل کو غم
اندوہ طفل جمعہ کو ہوتا ہے عید کا
قاتل رہا کرے گی شبِ جمعہ روشنی
کوچے میں تیرے ڈھیر ہو تیرے شہید کا
موسیٰ کی طرح ہم کو بھی دیدار کا ہے شوق
آنکھوں کو حوصلہ ہے تجلی کی دید کا
صورت کو تیری دیکھنے آتے ہیں قرعہ بیں
رخ پر یقین ہے اُنہیں شکلِ سعید کا
چسپاں بدن سے یار کے ہو کر قبائے ناز
حیران کار رکھتی ہے قطع و برید کا
بے جرم تیغِ عشق سے دل ہو گیا ہے قتل
سینہ مرا مقام ہے مردِ شہید کا
دیوانہ زلفِ یار کی زنجیر کا ہے دل
رہتا ہے صدمہ روح کو قیدِ شدید کا
خوں ریز جس قدر کہ ہو اُس سے عجب نہیں
آتش فراقِ یار پدر ہے یزید کا
خواجہ حیدر علی آتش
وحشت آگیں ہے فسانہ مری رسوائی کا - خواجہ حیدر علی آتش
وحشت آگیں ہے فسانہ مری رسوائی کا
عاشقِ زار ہوں اک آہوئے صحرائی کا
پاؤں زنداں سے نہ نکلا ترے سودائی کا
داغ دل ہی میں رہا لالۂ صحرائی کا
دھیان رہتا ہے قدِ یار کی رعنائی کا
سامنا روز ہے یاں آفتِ بالائی کا
کوہِ غم مثلِ پرِ کاہ اٹھا لیتا ہوں
ناتوانی میں بھی عالم ہے توانائی کا
لحدِ تیرہ میں مجھ پر جو لگا ہونے عذاب
پھر گیا آنکھوں میں عالم شبِ تنہائی کا
کون سا دل ہے نہیں جس میں خدا کی منزل
شکوہ کس منہ سے کروں میں بتِ رعنائی کا
مردِ درویش ہوں تکیہ ہے توکل میرا
خرچ ہر روز ہے یاں آمدِ بالائی کا
بوسۂ چشمِ غزالاں مجھے یاد آتے ہیں
نہیں بھولا میں مزا میوۂ صحرائی کا
زندگانی نے مجھے مردہ بنا رکھا ہے
ملک الموت سے سائل ہوں مسیحائی کا
مصرعِ سرو میں لاکھوں ہی نکالوں شاخیں
باندھوں مضموں جو قدِ یار کی رعنائی کا
جب سے شیطان کا احوال سنا ہے میں نے
پائے بت پر بھی ارادہ ہے جبیں سائی کا
ہوئی حجت مجھے غنچے کے چٹکنے کی صدا
شک پڑا تھا دہنِ یار میں گویائی کا
وہ تماشا ہے ترا حُسنِ پرآشوب اے ترک
آنکھوں کی راہ سے دم نکلے تماشائی کا
کس طرح سے دلِ وحشی کا میں کہنا مانوں
کوئی قائل نہیں دیوانے کی دانائی کا
یہی زنجیر کے نالے سے صدا آتی ہے
قیدخانے میں برا حال ہے سودائی کا
اک پری کو بھی نہ شیشے میں اتارا میں نے
یاد کیا آئے گا اس گنبدِ مینائی کا
بعد شاعر کے ہو مشہور کلامِ شاعر
شہرہ البتہ کہ ہو مردے کی گویائی کی
شہر میں قافیہ پیمائی بہت کی آتش
اب ارادہ ہے مرا بادیہ پیمائی کا
خواجہ حیدر علی آتش
یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے - آتش
یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے
ہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے
پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے
لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے
ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے
جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے
یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے
سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازی
غمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے
وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے
خواجہ حیدر علی آتش
ہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے
پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے
لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے
ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے
جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے
یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے
سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازی
غمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے
وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے
خواجہ حیدر علی آتش
فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا - حیدر علی آتش
فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا
خدا کی یاد بھولا شیخ، بُت سے برہمن بگڑا
امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک
نہ اک مُو کم ہوا اپنا ، نہ اک تارِ کفن بگڑا
لگے مُنہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
بناوٹ کیفِ مے سے کُھل گئی اُس شوخ کی آتش
لگا کر مُنہ سے پیمانے کو، وہ پیمان شکن بگڑا
خدا کی یاد بھولا شیخ، بُت سے برہمن بگڑا
امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک
نہ اک مُو کم ہوا اپنا ، نہ اک تارِ کفن بگڑا
لگے مُنہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
بناوٹ کیفِ مے سے کُھل گئی اُس شوخ کی آتش
لگا کر مُنہ سے پیمانے کو، وہ پیمان شکن بگڑا
حیدر علی آتش
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا -- حیدر علی آتش
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا
وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا
نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا
عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح دل شادماں تھا
مشاہد جمال پری کی تھیں آنکھیں
مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا
حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا
کیا تھا اُسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائبا وہاں تھا
حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا
بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا
حیدر علی آتش
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا
وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا
نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا
عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح دل شادماں تھا
مشاہد جمال پری کی تھیں آنکھیں
مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا
حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا
کیا تھا اُسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائبا وہاں تھا
حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا
بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا
حیدر علی آتش
ہوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے -- خواجہ حیدر علی آتش
ہَوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے
شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طِفلی
ہنوز حُسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے
عدَم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے
طریقِ عِشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ، کسی جا اُتار راہ میں ہے
طریقِ عِشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے
جگہ ہے رحم کی، یار ایک ٹھوکر اِس کو بھی
شہیدِ ناز کا تیرے مزار راہ میں ہے
سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے
نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروَردِگار راہ میں ہے
نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد، بہت سا غبار راہ میں ہے
تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے
جنُوں میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غُبار راہ میں ہے
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
کوئی تو دوش سے بارِ سفر اُتارے گا
ہزار راہزنِ اُمیدوار راہ میں ہے
مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے، دشمن ہزار راہ میں ہے
بہت سی ٹھوکریں کِھلوائے گا یہ حُسن اُن کا
بُتوں کا عِشق نہیں کوہسار راہ میں ہے
پتا یہ کوچۂ قاتل کا سُن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نِشاں اِک مزار راہ میں ہے
پیادہ پا ہُوں رَواں سُوئے کوچۂ قاتل
اجَل مِری، مِرے سر پر سوار راہ میں ہے
چلا ہے تیر و کماں لے کے صید گاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شِکار راہ میں ہے
تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہرآتش
گُلِ مُراد ہے منزِل میں، خار راہ میں ہے
خواجہ حیدر علی آتش
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے
شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طِفلی
ہنوز حُسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے
عدَم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے
طریقِ عِشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ، کسی جا اُتار راہ میں ہے
طریقِ عِشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے
جگہ ہے رحم کی، یار ایک ٹھوکر اِس کو بھی
شہیدِ ناز کا تیرے مزار راہ میں ہے
سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے
نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروَردِگار راہ میں ہے
نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد، بہت سا غبار راہ میں ہے
تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے
جنُوں میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غُبار راہ میں ہے
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
کوئی تو دوش سے بارِ سفر اُتارے گا
ہزار راہزنِ اُمیدوار راہ میں ہے
مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے، دشمن ہزار راہ میں ہے
بہت سی ٹھوکریں کِھلوائے گا یہ حُسن اُن کا
بُتوں کا عِشق نہیں کوہسار راہ میں ہے
پتا یہ کوچۂ قاتل کا سُن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نِشاں اِک مزار راہ میں ہے
پیادہ پا ہُوں رَواں سُوئے کوچۂ قاتل
اجَل مِری، مِرے سر پر سوار راہ میں ہے
چلا ہے تیر و کماں لے کے صید گاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شِکار راہ میں ہے
تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہرآتش
گُلِ مُراد ہے منزِل میں، خار راہ میں ہے
خواجہ حیدر علی آتش
ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام -- خواجہ حیدرعلی آتش
ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام
کرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام
حقا کے عِشق رکھتے ہیں تجھ سے حَسینِ دہر
دَم بھرتے ہیں تِرا بُتِ چین و چگِل تمام
ٹپکاتے زخمِ ہجر پر اے ترک ، کیا کریں
خالی ہیں تیل سے تِرے، چہرے کے تِل تمام
دیکھا ہے جب تجھے عرق آ آ گیا ہے یار
غیرت سے ہوگئے ہیں حَسِیں مُنفعِل تمام
عشق بُتاں کا روگ نہ اے دِل لگا مجھے
تُھکوا کے خُون کرتا ہے آزارِ سِل تمام
قُدسی بھی کُشتہ ہیں تِری شمشِیرِ ناز کے
مارے پڑے ہیں مُتّصِل و مُنفعِل تمام
دردِ فِراقِ یار سے ، کہتا ہے بند بند !
اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مُضمحِل تمام
ساری عدالت اُلفتِ صادِق کی ہے گواہ
مُہروں سے ہے لِپی ہُوئی اپنی سجِل تمام
کرتے ہیں غیر یار سے میرا بیانِ حال
اُلفت سے ہوگئے ہیں موافق مُخِل تمام
تیرِ نِگاہ ناز کا رہتا ہے سامنا
چَھلنی ہُوا ہے سِینہ، مُشبّک ہے دِل تمام
ہوتا ہے پردہ فاش، کلامِ دروغ کا
وعدے کا دِن سمجھ لے وہ، پیماں گسِل، تمام
خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ تھا تمھیں
اربابِ انجُمن ہُوئے آتش خجِل تمام
خواجہ حیدرعلی آتش
کرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام
حقا کے عِشق رکھتے ہیں تجھ سے حَسینِ دہر
دَم بھرتے ہیں تِرا بُتِ چین و چگِل تمام
ٹپکاتے زخمِ ہجر پر اے ترک ، کیا کریں
خالی ہیں تیل سے تِرے، چہرے کے تِل تمام
دیکھا ہے جب تجھے عرق آ آ گیا ہے یار
غیرت سے ہوگئے ہیں حَسِیں مُنفعِل تمام
عشق بُتاں کا روگ نہ اے دِل لگا مجھے
تُھکوا کے خُون کرتا ہے آزارِ سِل تمام
قُدسی بھی کُشتہ ہیں تِری شمشِیرِ ناز کے
مارے پڑے ہیں مُتّصِل و مُنفعِل تمام
دردِ فِراقِ یار سے ، کہتا ہے بند بند !
اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مُضمحِل تمام
ساری عدالت اُلفتِ صادِق کی ہے گواہ
مُہروں سے ہے لِپی ہُوئی اپنی سجِل تمام
کرتے ہیں غیر یار سے میرا بیانِ حال
اُلفت سے ہوگئے ہیں موافق مُخِل تمام
تیرِ نِگاہ ناز کا رہتا ہے سامنا
چَھلنی ہُوا ہے سِینہ، مُشبّک ہے دِل تمام
ہوتا ہے پردہ فاش، کلامِ دروغ کا
وعدے کا دِن سمجھ لے وہ، پیماں گسِل، تمام
خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ تھا تمھیں
اربابِ انجُمن ہُوئے آتش خجِل تمام
خواجہ حیدرعلی آتش
Friday, 3 March 2017
جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے -- امجد اسلام امجد
جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے
یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے !
وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں ، جِسے تم ہنسی میں اُڑاگئے
وہ چراغِ جاں، کبھی جس کی لَو ، نہ کسی ہَوا سے نِگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسو سے ، اُسے چُپکے چُپکے بُجھا گئے
وہ تھا چاند شامِ وصال کا ، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بند گانِ نیاز ہیں، یہ تمام ہیں وہی لشکر ی !
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی، تو ترے حضور میں آگئے
تری بے رُخی کے دیار میں، میں ہَوا کے ساتھ ہَوا ہُوا
ترے آئنے کی تلاش میں ، مِرے خواب چہرا گنوا گئے
ترے وسوسوں کے فشار میں ، ترا شہرِ رنگ اُجڑ گیا
مری خواہشوں کے غُبار میں، مرے ماہ وسالِ وفا گئے!
وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے
مِری عُمر سے نہ سمٹ سکے، مِرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے، تری اِک نگاہ میں آگئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے
یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے !
وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں ، جِسے تم ہنسی میں اُڑاگئے
وہ چراغِ جاں، کبھی جس کی لَو ، نہ کسی ہَوا سے نِگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسو سے ، اُسے چُپکے چُپکے بُجھا گئے
وہ تھا چاند شامِ وصال کا ، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بند گانِ نیاز ہیں، یہ تمام ہیں وہی لشکر ی !
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی، تو ترے حضور میں آگئے
تری بے رُخی کے دیار میں، میں ہَوا کے ساتھ ہَوا ہُوا
ترے آئنے کی تلاش میں ، مِرے خواب چہرا گنوا گئے
ترے وسوسوں کے فشار میں ، ترا شہرِ رنگ اُجڑ گیا
مری خواہشوں کے غُبار میں، مرے ماہ وسالِ وفا گئے!
وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے
مِری عُمر سے نہ سمٹ سکے، مِرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے، تری اِک نگاہ میں آگئے
امجد اسلام امجد
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے -- امجد اسلام امجد
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
فصلِ گل آئی، پھر اِک بار اسیرانِ وفا
اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے
اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے
ہجر کی چوٹ عجب سنگ شکن ہوتی ہے
دل کی بے فیض زمینوں سے خزانے نکلے
دل کی بے فیض زمینوں سے خزانے نکلے
عمر گذری ہے شبِ تار میں آنکھیں ملتے
کس افق سے مرا خورشید نہ جانے نکلے
کس افق سے مرا خورشید نہ جانے نکلے
کوئے قاتل میں چلے جیسے شہیدوں کا جلوس
خواب یو ں بھیگتی آنکھوں کو سجانے نکلے
خواب یو ں بھیگتی آنکھوں کو سجانے نکلے
دل نے اِک اینٹ سے تعمیر کیا تاج محل
تونے اک بات کہی، لاکھ فسانے نکلے
تونے اک بات کہی، لاکھ فسانے نکلے
دشتِ تنہائی ہجراں میں کھڑا سوچتا ہوں
ہا ئے کیا لوگ مرا ساتھ نبھانے نکلے
ہا ئے کیا لوگ مرا ساتھ نبھانے نکلے
میں نے امجد اسے بےواسطہ دیکھا ہی نہیں
وہ تو خوشبو میں بھی آہٹ کے بہانے نکلے
امجد اسلام امجد
محبت ایسا نغمہ ہے -- امجد اسلام امجد
محبت ایسا نغمہ ہے
ذرا بھی جھول ہے لَے میں
تو سُر قائم نہیں ہوتا
محبت ایسا شعلہ ہے
ہوا جیسی بھی چلتی ہو
کبھی مدھم نہیں ہوتا
محبت ایسا رشتہ ہے
کہ جس میں بندھنے والوں کے
دلوں میں غم نہیں ہوتا
محبت ایسا پودا ہے
جو تب بھی سبز رہتا ہے
کہ جب موسم نہیں ہوتا
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
ذرا بھی جھول ہے لَے میں
تو سُر قائم نہیں ہوتا
محبت ایسا شعلہ ہے
ہوا جیسی بھی چلتی ہو
کبھی مدھم نہیں ہوتا
محبت ایسا رشتہ ہے
کہ جس میں بندھنے والوں کے
دلوں میں غم نہیں ہوتا
محبت ایسا پودا ہے
جو تب بھی سبز رہتا ہے
کہ جب موسم نہیں ہوتا
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
امجد اسلام امجد
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم -- امجد اسلام امجد
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم
یاد ہے تم نے کہا تھا
''جب نگاہوں میں چمک ہو
لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس
اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے
تو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہے
وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت
جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہے
نگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیں
اور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیے
دامن بچھاتی ہے''
اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگا
جب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کر
تم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا
''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہے
حاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیں
لفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیں
وقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہے
جانے والا وقت سایہ ہے
کہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے
یاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیں
یہ جسے تم غم اذیت درد آنسو
دکھ وغیرہ کہہ رہے ہو
ایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہے
تم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تک
جو بھی کچھ میں نے کہا ہے''
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم
یاد ہے تم نے کہا تھا
''جب نگاہوں میں چمک ہو
لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس
اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے
تو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہے
وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت
جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہے
نگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیں
اور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیے
دامن بچھاتی ہے''
اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگا
جب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کر
تم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا
''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہے
حاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیں
لفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیں
وقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہے
جانے والا وقت سایہ ہے
کہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے
یاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیں
یہ جسے تم غم اذیت درد آنسو
دکھ وغیرہ کہہ رہے ہو
ایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہے
تم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تک
جو بھی کچھ میں نے کہا ہے''
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم
امجد اسلام امجد
اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں -- خواجہ حیدرعلی آتش
آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصود عیاں ہے کہ جو تھا
عشقِ گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
عالمِ حسن خداداد بتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا
راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
روز کرتے ہیں شب ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سبک خواب، گراں ہے کہ جو تھا
ایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہور
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا
دولتِ عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حسن کا عالم وہ کہاں ہے، کہ جو تھا
جاں کی تسکیں کے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تری ہم کو گماں ہے کہ جو تھا
اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا
دہن اس روئے کتابی میں ہے، پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قراں میں نہاں ہے کہ جو تھا
کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نما ہے تاحال
کوئے جاناں کی طرف دل نگراں ہے کہ جو تھا
کوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ ترا آبِ رواں ہے کہ جو تھا
سوزشِ دل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا
عود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہے کہ جو تھا
رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سنتے سنتے
شمعِ محفل صنمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا
پائے خم مستوں کی ہو حق کا جو عالم ہے سو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا
کون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیں
یہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہے کہ جو تھا
بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک شب و روز رواں ہے کہ جو تھا
لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا
دین و دنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھ
چہرۂ شاہدِ مقصود عیاں ہے کہ جو تھا
عشقِ گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
عالمِ حسن خداداد بتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا
راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
روز کرتے ہیں شب ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سبک خواب، گراں ہے کہ جو تھا
ایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہور
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا
دولتِ عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حسن کا عالم وہ کہاں ہے، کہ جو تھا
جاں کی تسکیں کے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تری ہم کو گماں ہے کہ جو تھا
اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا
دہن اس روئے کتابی میں ہے، پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قراں میں نہاں ہے کہ جو تھا
کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نما ہے تاحال
کوئے جاناں کی طرف دل نگراں ہے کہ جو تھا
کوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ ترا آبِ رواں ہے کہ جو تھا
سوزشِ دل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا
عود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہے کہ جو تھا
رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سنتے سنتے
شمعِ محفل صنمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا
پائے خم مستوں کی ہو حق کا جو عالم ہے سو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا
کون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیں
یہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہے کہ جو تھا
بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک شب و روز رواں ہے کہ جو تھا
لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا
دین و دنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھ
خواجہ حیدرعلی آتش
آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا -- خواجہ حیدرعلی آتش
آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصُود عیاں ہے کہ جو تھا
عِشقِ گُل میں وہی بُلبُل کا فُغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
عالَمِ حُسن ِخُداداد ِبُتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بَلائے دِل و جاں ہے کہ جو تھا
راہ میں تیری شب و روز بَسر کرتا ہُوں
وہی مِیل اور وہی سنگِ نِشاں ہے کہ جو تھا
روز کرتے ہیں شبِ ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سُبک خوابِ گراں ہے کہ جو تھا
ایک عالَم میں ہو ہر چند مسیحا مشہوُر
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا
دولتِ عِشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مُہر و نِشاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حُسن کا عالَم وہ کہاں ہے؟ کہ جو تھا
جاں کی تسکیں کے لیے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تِری ہم کو گُماں ہے کہ جو تھا
اثرِ منزلِ مقصوُد نہیں دُنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رَواں ہے کہ جو تھا
دہن اُس رُوئے کتابی میں ہے پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قرآں میں نہاں ہے کہ جو تھا
کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نُما ہے تاحال
کوُئے جاناں کی طرف دِل نگراں ہے کہ جو تھا
کوہ و صحرا و گُلِستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ تِرا آبِ رَواں ہے کہ جو تھا
سوزشِ دِل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا !
عود کے جلنے سے مجمر میں دُھواں ہے کہ جو تھا
رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سُنتے سُنتے
شمعِ محِفل صَنَمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا
پائے خُم مَستوں کی ہُو حق کا جو عالَم ہے سَو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا
کون سے دِن نئی قبریں نہیں اِس میں بنتیں
یہ خرابہ، وہی عبرت کا مکاں ہے، کہ جو تھا
بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک، شب و روز رَواں ہے کہ جو تھا
لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا
دِین و دُنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا! سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھا
چہرۂ شاہدِ مقصُود عیاں ہے کہ جو تھا
عِشقِ گُل میں وہی بُلبُل کا فُغاں ہے کہ جو تھا
پرتَوِ مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
عالَمِ حُسن ِخُداداد ِبُتاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز بَلائے دِل و جاں ہے کہ جو تھا
راہ میں تیری شب و روز بَسر کرتا ہُوں
وہی مِیل اور وہی سنگِ نِشاں ہے کہ جو تھا
روز کرتے ہیں شبِ ہجر کو بیداری میں
اپنی آنکھوں میں سُبک خوابِ گراں ہے کہ جو تھا
ایک عالَم میں ہو ہر چند مسیحا مشہوُر
نامِ بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا
دولتِ عِشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغِ دل، زخمِ جگر مُہر و نِشاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگی
عارضی حُسن کا عالَم وہ کہاں ہے؟ کہ جو تھا
جاں کی تسکیں کے لیے حالتِ دل کہتے ہیں
بے یقینی کا تِری ہم کو گُماں ہے کہ جو تھا
اثرِ منزلِ مقصوُد نہیں دُنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رَواں ہے کہ جو تھا
دہن اُس رُوئے کتابی میں ہے پر نا پیدا
اسمِ اعظم وہی قرآں میں نہاں ہے کہ جو تھا
کعبۂ مدِّ نظر، قبلہ نُما ہے تاحال
کوُئے جاناں کی طرف دِل نگراں ہے کہ جو تھا
کوہ و صحرا و گُلِستاں میں پھرا کرتا ہے
متلاشی وہ تِرا آبِ رَواں ہے کہ جو تھا
سوزشِ دِل سے تسلسل ہے وہی آہوں کا !
عود کے جلنے سے مجمر میں دُھواں ہے کہ جو تھا
رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سُنتے سُنتے
شمعِ محِفل صَنَمِ چرب زباں ہے کہ جو تھا
پائے خُم مَستوں کی ہُو حق کا جو عالَم ہے سَو ہے
سرِ منبر وہی واعظ کا بیاں ہے، کہ جو تھا
کون سے دِن نئی قبریں نہیں اِس میں بنتیں
یہ خرابہ، وہی عبرت کا مکاں ہے، کہ جو تھا
بے خبرشوق سے میرے نہیں وہ نُورِ نِگاہ
قاصدِ اشک، شب و روز رَواں ہے کہ جو تھا
لیلتہ القدر کنایہ نہ شبِ وصل سے ہو؟
اِس کا افسانہ میانِ رَمَضاں ہے کہ جو تھا
دِین و دُنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہے
یہ گدا! سائلِ نقدِ دو جہاں ہے کہ جو تھا
خواجہ حیدرعلی آتش
ہنگامہ ہے کیوں برپا -- اکبر الہ آبادی
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ، تو نہیں ڈالا، چوری، تو نہیں کی ہے
ڈاکہ، تو نہیں ڈالا، چوری، تو نہیں کی ہے
نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں
اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟
اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟
اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے
ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے
سورج میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے۔ اقبال عظیم
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے
اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے
دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے
تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے
ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے
تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے
صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں
تم تو بھولے ہو، چراغوں سے بہل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے
اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے
دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے
تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے
ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے
تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے
صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں
تم تو بھولے ہو، چراغوں سے بہل جاؤ گے
اقبال عظیم
مدرسہ -- علامہ اقبالؒ
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا ، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
فیض فطرت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
فیض فطرت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش
علامہ اقبالؒ
ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف -- افتخار عارف
ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف
دل کسی اور طرف دستِ دعا اور طرف
اک رجز خوان ہنر کاسہ و کشکول میں طاق
جب صفِ آرا ہوئے لشکر تو ملا اور طرف
اے کہ ہر لمحہ نئے وہم میں الجھے ہوئے شخص
میری محفل میں الجھتا ہے تو جا اور طرف
اہلِ تشہیر و تماشا کے طلسمات کی خیر
چل پڑے شہر کے سب شعلہ نوا اور طرف
کیا مسافر تھا سفر کرتا رہا اس بستی میں
اور لو دیتے تھے نقشِ کفِ پا اور طرف
شاخِ مژگاں سے جو ٹوٹا تھا ستارہ سرِ شام
رات آئی تو وہی پھول کھلا اور طرف
نرغۂ ظلم میں دکھ سہتی رہی خلقتِ شہر
اہلِ دنیا نے کیے جشن بپا اور طرف
افتخار عارف
مِلیں پھر آکے اِسی موڑ پر، دُعا کرنا -- اعتبار ساجد
مِلیں پھر آکے اِسی موڑ پر، دُعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر، دُعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا، جو بھی نقشہ ہو!
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر، دُعا کرنا
چراغ جاں پہ ، اِس آندھی میں خیریت گُزرے
کوئی اُمید نہیں ہے، مگر دُعا کرنا
تمہارے بعد مِرے زخمِ نارَسائی کو
نہ ہو نصِیب کوئی چارہ گر ، دُعا کرنا
مُسافتوں میں، نہ آزار جی کو لگ جائے!
مِزاج داں نہ مِلیں ہمسفر، دُعا کرنا
دُکھوں کی دُھوپ میں، دامن کشا مِلیں سائے
گھنے، ہر ے ہی رہَیں سب شجر، دُعا کرنا
نشاطِ قُرب میں، آئی ہے ایسی نیند مجھے!
کُھلے، نہ آنکھ مِری عُمر بھر ، د ُعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر، دُعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا، جو بھی نقشہ ہو!
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر، دُعا کرنا
چراغ جاں پہ ، اِس آندھی میں خیریت گُزرے
کوئی اُمید نہیں ہے، مگر دُعا کرنا
تمہارے بعد مِرے زخمِ نارَسائی کو
نہ ہو نصِیب کوئی چارہ گر ، دُعا کرنا
مُسافتوں میں، نہ آزار جی کو لگ جائے!
مِزاج داں نہ مِلیں ہمسفر، دُعا کرنا
دُکھوں کی دُھوپ میں، دامن کشا مِلیں سائے
گھنے، ہر ے ہی رہَیں سب شجر، دُعا کرنا
نشاطِ قُرب میں، آئی ہے ایسی نیند مجھے!
کُھلے، نہ آنکھ مِری عُمر بھر ، د ُعا کرنا
اعتبار ساجد
یہ بھی فریب سے ہیں کچھ درد عاشقی کے -- اصغر گونڈوی
یہ بھی فریب سے ہیں کچھ درد عاشقی کے
ہم مرکے کیا کرینگے، کیا کر لِیا ہے جی کے
محسُوس ہو رہے ہیں بادِ فنا کے جھونکے
کھُلنے لگے ہیں مجھ پر اسرار زندگی کے
شرح و بیانِ غم ہے اِک مطلبِ مُقیّد
خاموش ہُوں کہ معنی صدہا ہیں خامشی کے
بارِ الم اُٹھایا، رنگِ نِشاط دیکھا
آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حسی کے
ہم مرکے کیا کرینگے، کیا کر لِیا ہے جی کے
محسُوس ہو رہے ہیں بادِ فنا کے جھونکے
کھُلنے لگے ہیں مجھ پر اسرار زندگی کے
شرح و بیانِ غم ہے اِک مطلبِ مُقیّد
خاموش ہُوں کہ معنی صدہا ہیں خامشی کے
بارِ الم اُٹھایا، رنگِ نِشاط دیکھا
آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حسی کے
اصغر گونڈوی
خود حِجابوں سا، خود جمال سا تھا -- ادا جعفری
خود حِجابوں سا، خود جمال سا تھا
دِل کا عالَم بھی بے مِثال سا تھا
دِل کا عالَم بھی بے مِثال سا تھا
عکس میرا بھی آئنوں میں نہیں
وہ بھی اِک کیفیت خیال سا تھا
وہ بھی اِک کیفیت خیال سا تھا
دشت میں، سامنے تھا خیمۂ گل
دُورِیوں میں عجب کمال سا تھا
دُورِیوں میں عجب کمال سا تھا
بے سبب تو نہیں تھا آنکھوں میں
ایک موسم، کہ لازوال سا تھا
ایک موسم، کہ لازوال سا تھا
تھا ہتھیلی پہ اِک چراغِ دُعا
اور ہر لمحہ اِک سوال سا تھا
اور ہر لمحہ اِک سوال سا تھا
خوف اندھیرے کا، ڈر اُجالوں سے
سانحہ تھا، تو حسبِ حال سا تھا
سانحہ تھا، تو حسبِ حال سا تھا
کیا قیامت ہے حُجلۂ جاں میں
حال اُس کا بھی، میرے حال سا تھا
حال اُس کا بھی، میرے حال سا تھا
طوفان کی آمد۔۔اختر شیرانی
کسی کمزور کو جینے کا نہ ہوگا کوئی حق
اب تو کچھ ایسا ہی سامان ہوا چاہتا ہے
جو ممالک ہیں نہتے ، ہیں فنا کے قابل
اہل طاقت کا یہ ایمان ہوا چاہتاہے
اس زمانے میں ہیں کم مایہ جو اقوام ، ان کے
کفن و گو ر کا سامان ہوا چاہتا ہے
پھر برسنے کو ہیں اقصائے زمیں پر فتنے
پھر بپا حشر کا طوفان ہوا چاہتا ہے
مطلع دہر پہ چھانے کو پھر جنگ کا ابر
امن کا گلکدہ ویران ہوا چاہتا ہے
اب تو کچھ ایسا ہی سامان ہوا چاہتا ہے
جو ممالک ہیں نہتے ، ہیں فنا کے قابل
اہل طاقت کا یہ ایمان ہوا چاہتاہے
اس زمانے میں ہیں کم مایہ جو اقوام ، ان کے
کفن و گو ر کا سامان ہوا چاہتا ہے
پھر برسنے کو ہیں اقصائے زمیں پر فتنے
پھر بپا حشر کا طوفان ہوا چاہتا ہے
مطلع دہر پہ چھانے کو پھر جنگ کا ابر
امن کا گلکدہ ویران ہوا چاہتا ہے
اختر شیرانی
تُو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ ۔ احمد ندیم قاسمی
تُو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھ
پھول کھلتے ہیں ترے شعلۂ آواز کے ساتھ
ایک بار اور بھی کیوں عرضِ تمنّا نہ کروں
کہ تُو انکار بھی کرتا ہے عجب ناز کے ساتھ
لَے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکستِ دل کی
رگِ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگِ ساز کے ساتھ
تو پکارے تو چمک اٹھتی ہے میری آنکھیں
تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ
جب تک ارزاں ہے زمانے میں کبوتر کا لہو
ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ
پست اتنی تو نہ تھی میری شکست اے یارو
پر سمیٹے ہیں مگر حسرتِ پرواز کے ساتھ
پہرے بیٹھے ہیں قفس پر کہ ہے صیّاد کو وہم
پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
پھول کھلتے ہیں ترے شعلۂ آواز کے ساتھ
ایک بار اور بھی کیوں عرضِ تمنّا نہ کروں
کہ تُو انکار بھی کرتا ہے عجب ناز کے ساتھ
لَے جو ٹوٹی تو صدا آئی شکستِ دل کی
رگِ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگِ ساز کے ساتھ
تو پکارے تو چمک اٹھتی ہے میری آنکھیں
تیری صورت بھی ہے شامل تری آواز کے ساتھ
جب تک ارزاں ہے زمانے میں کبوتر کا لہو
ظلم ہے ربط رکھوں گر کسی شہباز کے ساتھ
پست اتنی تو نہ تھی میری شکست اے یارو
پر سمیٹے ہیں مگر حسرتِ پرواز کے ساتھ
پہرے بیٹھے ہیں قفس پر کہ ہے صیّاد کو وہم
پر شکستوں کو بھی اک ربط ہے پرواز کے ساتھ
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
احمد ندیم قاسمی
اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں - احمد مشتاق
اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں
کون رہتا تھا کہاں یاد نہیں
جلوہء حسن ازل تھے وہ دیار
جن کے اب نام و نشاں یاد نہیں
کوئی اجلا سا بھلا سے گھر تھا
کس کو دیکھا تھا وہاں یاد نہیں
یاد ہے زینہء پیچاں اس کا
در و دیوار مکاں یاد نہیں
یاد ہے زمزمہء ساز بہار
شور آواز خزاں یاد نہیں
کون رہتا تھا کہاں یاد نہیں
جلوہء حسن ازل تھے وہ دیار
جن کے اب نام و نشاں یاد نہیں
کوئی اجلا سا بھلا سے گھر تھا
کس کو دیکھا تھا وہاں یاد نہیں
یاد ہے زینہء پیچاں اس کا
در و دیوار مکاں یاد نہیں
یاد ہے زمزمہء ساز بہار
شور آواز خزاں یاد نہیں
احمد مشتاق
دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا ۔ احمد راہی
دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا
چاند کے پہلو میں دَم سادھ کے روتی ہے کرن
آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا
راکھ میں آگ بھی ہے غمِ محرومی کی
راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا
وقت خاموش ہے روٹھے ہوئے یاروں کی طرح
کون لَو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا
دھوپ کو دیکھ کے اس جسم پہ پڑتی ہے چمک
چھاؤں دیکھیں گے تو اس زلف کا دھیان آئے گا
زندگی! چل کہ ذرا موت کا دم خم دیکھیں
ورنہ یہ جذبہ لحَد تک ہمیں لے جائے گا
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا
چاند کے پہلو میں دَم سادھ کے روتی ہے کرن
آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا
راکھ میں آگ بھی ہے غمِ محرومی کی
راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا
وقت خاموش ہے روٹھے ہوئے یاروں کی طرح
کون لَو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا
دھوپ کو دیکھ کے اس جسم پہ پڑتی ہے چمک
چھاؤں دیکھیں گے تو اس زلف کا دھیان آئے گا
زندگی! چل کہ ذرا موت کا دم خم دیکھیں
ورنہ یہ جذبہ لحَد تک ہمیں لے جائے گا
احمد راہی
نظم: سو کا نوٹ -- احسان دانش
دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا اِدھر
قائدِ اعظمؒ کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر
ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا؟
میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے کیا؟
مصلحت، کہہ کر زبانِ حال سی دی جائے گی؟
کیا اسی تصویر سے رشوت بھی لی، دی جائے گی؟
دل لرز اٹھے، نہ کیوں اِس خواب کی تعبیر سے؟
رات دن ہو گی سمگلنگ بھی اسی تصویر سے؟
کیا مسلماں اس طرح بھی لائیں گے مجھ پر عذاب؟
کیا اسی تصویر سے جا کر خریدیں گے شراب؟
لوگ کیا کھیلیں گے میری روح کی تنویر سے؟
ملک بھر میں کیا جوا ہو گا اسی تصویر سے؟
کلمہ گو کیا یوں بھی لُوٹیں گے مرا صبر و قرار؟
کیا اِسی تصویر سے چکلوں میں ہو گا کاروبار؟
نوٹ پر تصویر دانشؔ انحرافِ دین ہے
یہ جنابِ قائدِ اعظمؒ کی اک توہین ہے
قائدِ اعظمؒ کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر
ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا؟
میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے کیا؟
مصلحت، کہہ کر زبانِ حال سی دی جائے گی؟
کیا اسی تصویر سے رشوت بھی لی، دی جائے گی؟
دل لرز اٹھے، نہ کیوں اِس خواب کی تعبیر سے؟
رات دن ہو گی سمگلنگ بھی اسی تصویر سے؟
کیا مسلماں اس طرح بھی لائیں گے مجھ پر عذاب؟
کیا اسی تصویر سے جا کر خریدیں گے شراب؟
لوگ کیا کھیلیں گے میری روح کی تنویر سے؟
ملک بھر میں کیا جوا ہو گا اسی تصویر سے؟
کلمہ گو کیا یوں بھی لُوٹیں گے مرا صبر و قرار؟
کیا اِسی تصویر سے چکلوں میں ہو گا کاروبار؟
نوٹ پر تصویر دانشؔ انحرافِ دین ہے
یہ جنابِ قائدِ اعظمؒ کی اک توہین ہے
احسان دانش
اس بستی کے اِک کُوچے میں۔ ابن انشاء
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اِک نار پہ جان کو ہار گیا، مشہور ہے اس کا افسانہ
اس نار میں ایسا رُوپ نہ تھا، جس رُوپ سے دن کی دُھوپ دبے
اس شہر میں کیا کیا گوری ہے، مہتاب رخِ گلنار لیے
کچھ بات تھی اُس کی باتوں میں، کچھ بھید تھے اُس کے چتون میں
وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں، کسی چاہنے والے کے من میں
اُسے اپنا بنانے کی دُھن میں ہوُا آپ ہی آپ سے بیگانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
نا چنچل کھیل جوانی کے، نا پیار کی الہڑ گھاتیں تھیں
بس راہ میں اُن کا ملنا تھا، یا فون پہ اُن کی باتیں تھیں
اس عشق پہ ہم بھی ہنستے تھے، بے حاصل سا بے حاصل تھا؟
اِک روز بِپھرتے ساگر میں، ناکشتی تھی نا ساحل تھا
جو بات تھی اُن کے دل میں تھی، جو بھید تھا یکسر انجانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اِک روز اگر برکھا رُت میں، وہ بھادوں تھی یا ساون تھا
دیوار پہ بیچ سمندر کے، یہ دیکھنے والوں نے دیکھا
مستانہ ہاتھ میں ہاتھ دئیے، یہ ایک کگر پہ بیٹھے تھے
یُوں شام ہوئی پھر رات ہوئی، جب سیلانی گھر لوٹ گئے
کیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے، اُس رات پہ لکھیں افسانہ
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہت
وہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سوُد نہیں، نقصان بہت
وہ نار یہ کہہ کر دُور ہوئی "مجبوری ساجن مجبوری"
یہ وحشت سے رنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری؟
اُس روز ہمیں معلوم ہوا، اُس شخص کا مشکل سمجھانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
گو آگ سے چھاتی جلتی تھی، گو آنکھ سے دریا بہتا تھا
ہر ایک سے دُکھ نہیں کہتاتھا، چُپ رہتا تھا غم سہتا تھا
نادان ہیں وہ جو چھیڑتے ہیں، اس عالم میں نادانوں کو
اس شخص سے ایک جواب ملا، سب اپنوں کو بیگانوں کو
"کُچھ اور کہو تو سُنتا ہوں، اس باب میں کچھ مت فرمانا"
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اب آگے کا تحقیق نہیں، گو سُننے کو ہم سُنتے تھے
اُس نار کی جو جو باتیں تھیں، اُس نار کے جو جو قصے تھے
اِک شام جو اُس کو بُلوایا، کچھ سمجھایا بے چارے نے
اُس رات یہ قصہ پاک کیا، کچھ کھا ہی لیا دُکھیارے نے
کیا بات ہوئی کس طور ہوئی؟ اخبار سے لوگوں نے جانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں، تم ہم کو کہانی کہنے دو
اُس نار کا نام،مقام ہے کیا، اس بات پہ پردا رہنے دو
ہم سے بھی تو سودا ممکن ہے، تم سے بھی جفا ہوسکتی ہے
یہ اپنا بیاں ہوسکتا ہے، یہ اپنی کتھا ہوسکتی ہے
وہ نار بھی آخر پچھتائی، کس کام کا ایسا پچھتانا؟
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اِک نار پہ جان کو ہار گیا، مشہور ہے اس کا افسانہ
اس نار میں ایسا رُوپ نہ تھا، جس رُوپ سے دن کی دُھوپ دبے
اس شہر میں کیا کیا گوری ہے، مہتاب رخِ گلنار لیے
کچھ بات تھی اُس کی باتوں میں، کچھ بھید تھے اُس کے چتون میں
وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں، کسی چاہنے والے کے من میں
اُسے اپنا بنانے کی دُھن میں ہوُا آپ ہی آپ سے بیگانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
نا چنچل کھیل جوانی کے، نا پیار کی الہڑ گھاتیں تھیں
بس راہ میں اُن کا ملنا تھا، یا فون پہ اُن کی باتیں تھیں
اس عشق پہ ہم بھی ہنستے تھے، بے حاصل سا بے حاصل تھا؟
اِک روز بِپھرتے ساگر میں، ناکشتی تھی نا ساحل تھا
جو بات تھی اُن کے دل میں تھی، جو بھید تھا یکسر انجانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اِک روز اگر برکھا رُت میں، وہ بھادوں تھی یا ساون تھا
دیوار پہ بیچ سمندر کے، یہ دیکھنے والوں نے دیکھا
مستانہ ہاتھ میں ہاتھ دئیے، یہ ایک کگر پہ بیٹھے تھے
یُوں شام ہوئی پھر رات ہوئی، جب سیلانی گھر لوٹ گئے
کیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے، اُس رات پہ لکھیں افسانہ
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہت
وہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سوُد نہیں، نقصان بہت
وہ نار یہ کہہ کر دُور ہوئی "مجبوری ساجن مجبوری"
یہ وحشت سے رنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری؟
اُس روز ہمیں معلوم ہوا، اُس شخص کا مشکل سمجھانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
گو آگ سے چھاتی جلتی تھی، گو آنکھ سے دریا بہتا تھا
ہر ایک سے دُکھ نہیں کہتاتھا، چُپ رہتا تھا غم سہتا تھا
نادان ہیں وہ جو چھیڑتے ہیں، اس عالم میں نادانوں کو
اس شخص سے ایک جواب ملا، سب اپنوں کو بیگانوں کو
"کُچھ اور کہو تو سُنتا ہوں، اس باب میں کچھ مت فرمانا"
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اب آگے کا تحقیق نہیں، گو سُننے کو ہم سُنتے تھے
اُس نار کی جو جو باتیں تھیں، اُس نار کے جو جو قصے تھے
اِک شام جو اُس کو بُلوایا، کچھ سمجھایا بے چارے نے
اُس رات یہ قصہ پاک کیا، کچھ کھا ہی لیا دُکھیارے نے
کیا بات ہوئی کس طور ہوئی؟ اخبار سے لوگوں نے جانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں، تم ہم کو کہانی کہنے دو
اُس نار کا نام،مقام ہے کیا، اس بات پہ پردا رہنے دو
ہم سے بھی تو سودا ممکن ہے، تم سے بھی جفا ہوسکتی ہے
یہ اپنا بیاں ہوسکتا ہے، یہ اپنی کتھا ہوسکتی ہے
وہ نار بھی آخر پچھتائی، کس کام کا ایسا پچھتانا؟
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
ابن انشاء
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا --- آتش
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تیری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینہ صد چاک شانہ کیا
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوز بکف
قاعدوں نے راستہ میں لٹایا خزانہ کیا
اڑتا ہے شوقِ راحت منزل سے اسپ عمر
مہمیز کس کو کہتے ہیں اور تازیانہ کیا
زینہ صبا کو ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا
چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا
صیاد اسیرِ دام رگ گل ہے عندلیب
دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے آب و دانہ کیا
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا
ہوتا ہے زر و سن کے جو نا مرد مدعی
رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا
بے یار ساز گار نہ ہو گا وہ گوش کو
مطرب ہمیں سناتا ہے اپنا ترانہ کیا
صیاد گل غدار دکھاتا ہے سیرِ باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا
ترچھی نظر سے طائرِ دل ہو چکا شکار
جب تیر کج پڑے گا اڑے گا نشانہ کیا
بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں
مہماں، سرائے جسم کا ہو گا ردانہ کیا
یاں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ نہ دے
آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تیری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینہ صد چاک شانہ کیا
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوز بکف
قاعدوں نے راستہ میں لٹایا خزانہ کیا
اڑتا ہے شوقِ راحت منزل سے اسپ عمر
مہمیز کس کو کہتے ہیں اور تازیانہ کیا
زینہ صبا کو ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا
چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا
صیاد اسیرِ دام رگ گل ہے عندلیب
دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے آب و دانہ کیا
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا
ہوتا ہے زر و سن کے جو نا مرد مدعی
رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا
بے یار ساز گار نہ ہو گا وہ گوش کو
مطرب ہمیں سناتا ہے اپنا ترانہ کیا
صیاد گل غدار دکھاتا ہے سیرِ باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا
ترچھی نظر سے طائرِ دل ہو چکا شکار
جب تیر کج پڑے گا اڑے گا نشانہ کیا
بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں
مہماں، سرائے جسم کا ہو گا ردانہ کیا
یاں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ نہ دے
آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
خواجہ حیدرعلی آتش
Subscribe to:
Posts (Atom)